میوزک کی دنیا کی مشہور گلوکارہ کیلی کلارکسن نے اپنے سات سالہ کامیاب ٹاک شو کو الوداع کہہ دیا ہے۔ سیٹھ میئرز کے ساتھ ایک جذباتی گفتگو میں، انہوں نے اپنے آخری پرفارمنس کی مشکلات اور 'دی وائس' (The Voice) میں اپنی شاندار واپسی کے بارے میں انکشافات کیے، جبکہ پوری دنیا اب بھی لیجنڈری گلوکارہ ڈولی پارٹن کی وفات کے غم میں ہے۔

ایک دور کا خاتمہ: دی کیلی کلارکسن شو

ہنسی، مذاق اور موسیقی کے سات سالوں کے بعد، کیلی کلارکسن نے اپنے کامیاب ٹاک شو کا اختتام کر دیا ہے۔ گلوکارہ نے پیر 21 ستمبر کو لیٹ نائٹ ود سیٹھ میئرز کے سیٹ پر شرکت کی تاکہ اس نئے سفر کے آغاز اور پرانے باب کے اختتام پر بات کر سکیں۔

اس شو کا سب سے زیادہ چرچا ہونے والا لمحہ ان کا آخری گانا تھا: 'Golden' (KPop Demon Hunters کا)۔ یہ انتخاب اتفاقیہ نہیں تھا، کیونکہ یہ ان کے مشہور سیکشن 'Kellyoke' (جہاں وہ مختلف مشہور گانے گاتی تھیں) میں مداحوں کی سب سے زیادہ پسندیدہ فرمائش تھی۔ تاہم، کیلی نے اعتراف کیا کہ اس گانے کی بلند آواز (High Vocal Range) کی وجہ سے اسے گانا ان کے لیے ایک بہت بڑا تکنیکی چیلنج تھا۔

پردے کے پیچھے کی کہانی: کلارکسن نے بتایا کہ انہوں نے اس پرفارمنس کے لیے سخت مشق کی اور دو بیک اپ ورژن بھی ریکارڈ کیے جنہیں معیار پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے مسترد کر دیا گیا۔ یہ ان کی کام کے تئیں انتہا پسندی اور معیار کی علامت ہے!
پس منظر: کیلی کلارکسن کی کامیابی کا سفر

ان لوگوں کے لیے جو انہیں نہیں جانتے، کیلی کلارکسن امریکہ کے مشہور میوزک مقابلے American Idol کی پہلی فاتح تھیں۔ انہوں نے ایک گلوکارہ سے بڑھ کر اپنی ایک میڈیا سلطنت کھڑی کی۔ ان کا ٹاک شو اس لیے مشہور ہوا کیونکہ وہ مشہور شخصیات کے انسانی پہلو کو سامنے لاتی تھیں اور 'Kellyoke' کے ذریعے اپنی آواز کی ورسٹائلٹی (تنوع) سے لوگوں کو حیران کر دیتی تھیں۔

مستقبل کی پیش گوئی: آگے کیا ہو سکتا ہے؟

اپنے شو کے اختتام کے بعد، یہ امکان موجود ہے کہ کیلی اب مکمل طور پر اپنے میوزک کیریئر پر توجہ دیں، جس کی وجہ سے وہ جلد ہی کسی نئے ایلبم کا اعلان کر سکتی ہیں۔ جہاں تک The Voice کا تعلق ہے، ان کی واپسی سے سیزن 30 کی ریٹنگز میں اضافہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایڈم لیوین کی واپسی کے ساتھ ایک نیا مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔