برلن کی نئی ترجیحات: کھیل یا گھر؟
جرمنی کی سیاست میں ایک بڑا موڑ آیا ہے جہاں Die Linke (بائیں بازو کی سیاسی جماعت) کی مرکزی امیدوار ایلف ایرالپ (Elif Eralp) نے برلن کی اولمپک خواہشات پرinsertBefore مکمل طور پر خط ڈال دیا ہے۔
ایرلپ کا موقف ہے کہ اولمپکس کی تیاری پر اب تک خرچ کیے گئے 6 ملین یورو ضیاع تھے، اور وہ مزید اربوں یورو ایسے منصوبوں پر لگانے کے حق میں نہیں ہیں جب شہر کے عام شہری کرایوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور رہائش کی شدید کمی سے پریشان ہیں۔
سیاسی منظرنامہ کیا ہے؟
برلن کی پارلیمنٹ کے انتخابات میں Die Linke نے تقریباً 25% ووٹ حاصل کر کے بڑی جیت سمیٹی ہے، جس سے SPD اور CDU جیسی بڑی جماعتوں کی گرفت کم ہو گئی ہے۔ یہ تبدیلی اس لیے اہم ہے کیونکہ میئر کائی ویگنر (Kai Wegner) کی قیادت میں پارلیمنٹ نے مئی میں اولمپکس کے حق میں ووٹ دیا تھا، لیکن نئی حکومت اس فیصلے کو ماننے کو تیار نہیں ہے۔
آسان الفاظ میں سمجھیں
اس صورتحال کو یوں سمجھیں جیسے کوئی شہر ورلڈ کپ جیسی بڑی ایونٹ کی میزبانی کرنے سے انکار کر دے تاکہ وہ پیسہ غریبوں کے لیے گھر بنانے یا بنیادی ڈھانچے کی بہتری پر خرچ کیا جا سکے۔ ایلف ایرالپ کا ماننا ہے کہ اولمپکس سے شہریوں کو کوئی حقیقی فائدہ نہیں ہوتا، بلکہ صرف مالی بوجھ بڑھتا ہے۔
جرمنی کے دیگر شہروں کی صورتحال
جرمن اولمپک کمیٹی (DOSB) اس ہفتے بادن-بادن میں فیصلہ کرے گی کہ کون سا شہر بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (IOC) کے سامنے نمائندگی کرے گا۔
| شہر | امیدواری کی صورتحال | عوامی حمایت |
|---|---|---|
| برلن | Die Linke کی جانب سے مسترد | عوامی رائے شماری نہیں ہوئی |
| میونخ (Munich) | سب سے مضبوط امیدوار | ریفرنڈم کے ذریعے تصدیق شدہ |
| کولون (Cologne) | سخت مقابلہ | ریفرنڈم کے ذریعے تصدیق شدہ |