فرانس کی قومی فٹ بال ٹیم کے سابق سیکیورٹی سربراہ محمد سنہاجی کو مبینہ طور پر رشوت ستانی اور منی لانڈرنگ کے کیس میں عدالت کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ یہ معاملہ مشہور فٹ بالر کیلیان ایمباپے کی جانب سے کیے گئے ان عطیات سے جڑا ہے جن کی مجموعی رقم 180,300 یورو بتائی جا رہی ہے، جس نے فرانسیسی انصاف کے نظام میں ہلچل مچا دی ہے۔

عدالتی خبر

رپورٹ: رکارڈو فرنانڈیز | عدالتی نامہ نگار

میعادِ سزا اور قانونی پیچیدگیاں

فرانسیسی عدالت نے محمد سنہاجی، جو نیشنل پولیس کے سابق کمانڈر اور فرانسیسی فٹ بال ٹیم کے لاجسٹکس اور سیکیورٹی کے ذمہ دار تھے، کے خلاف رسمی کارروائی شروع کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 16 ستمبر 2026 کو انہیں باقاعدہ ملزم قرار دیا گیا، جبکہ اس کیس کی تحقیقات جنوری 2026 سے جاری تھیں۔

کیس کا پس منظر: کیا ہوا تھا؟

یہ کہانی جولائی 2024 میں شروع ہوئی جب ایک بینک نے Tracfin (فرانس کی مالیاتی انٹیلیجنس یونٹ جو مشکوک لین دین کی نگرانی کرتی ہے) کو کچھ غیر معمولی ٹرانزیکشنز کے بارے میں مطلع کیا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ دنیا کے مہنگے ترین فٹ بالر کیلیان ایمباپے نے قطر ورلڈ کپ 2022 کے انعامات سے حاصل ہونے والی رقم میں سے کچھ عطیات دیے تھے۔

*نوٹ: Tracfin فرانس کا وہ ادارہ ہے جو منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری جیسے مالیاتی جرائم کو روکنے کے لیے کام کرتا ہے۔

ملزم / فائدہ اٹھانے والا مبینہ رقم الزامات
محمد سنہاجی 60,300 € بدعنوانی، اثر و رسوخ کا غلط استعمال، دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ
چار بریگیڈیئر چیفس 120,000 € (30k فی شخص) فنڈز کی وصولی کی تحقیقات جاری ہیں
کل رقم: 180,300 € -
عدالتی پابندیاں

عدالت نے سنہاجی پر 80,000 یورو کا ضمانتی فارمنس (Bail) عائد کیا ہے۔ مزید برآں، انہیں درج ذیل پابندیاں عائد کی گئی ہیں:

  • ✅ کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف سے رابطہ کرنے پر پابندی۔
  • ✅ فرانسیسی فٹ بال فیڈریشن (FFF) کے دفاتر میں داخلے پر پابندی۔
  • ✅ کلیر فونٹین (Clairefontaine) اور اسٹڈ ڈی فرانس جیسے مقامات پر جانے کی ممانعت۔
موجودہ صورتحال

پولیس نیشنل نے سنہاجی کو اس وجہ سے قبل از وقت ریٹائر کرنے پر مجبور کیا کیونکہ انہوں نے اپنے اعلیٰ افسران کو ان عطیات کے بارے میں مطلع نہیں کیا تھا۔

تازہ ترین: فٹ بال فیڈریشن (FFF) نے اس کیس میں بطور مدعی (Civil Party) شمولیت اختیار کر لی ہے۔

کیلیان ایمباپے کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ یہ تمام عطیات قانونی دائرے میں رہ کر دیے گئے تھے اور اس کے بدلے میں کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا گیا۔ تمام متعلقہ افراد کی بے گناہی کا تصور کیا جائے گا جب تک کہ تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں۔