ایک بین الاقوامی پرواز کے دوران مسافروں کو شدید خوف کا سامنا کرنا پڑا جب ایک عام استعمال ہونے والے چارجر (پاور بینک) میں دھماکہ ہوا۔ لمبی پروازوں میں یہ آلات بہت عام ہیں، لیکن غلط استعمال یا خرابی کی صورت میں یہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
تکنیکی وضاحت: 'تھرمل رن اوے' (Thermal Runaway) کیا ہے؟
غیر تصدیق شدہ یا خراب لیتھیوم بیٹریوں میں ایک کیمیائی عمل شروع ہو سکتا ہے جسے 'تھرمل رن اوے' کہا جاتا ہے۔ اس میں بیٹری کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھتا ہے جس سے آگ لگ جاتی ہے، اور طیارے جیسے بند ماحول میں اسے بجھانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔
واقعے کی تفصیلات
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب طیارہ بحرِ اوقیانوس (Atlantic Ocean) کی فضاؤں سے گزر رہا تھا۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے Le Parisien کی رپورٹ کے مطابق، مسافروں نے ایک "زوردار دھماکہ" سنا جس کے فوراً بعد آگ کے شعلے بلند ہوئے، جس کے بعد عملے نے فوری طور پر ہنگامی پروٹوکولز کو فعال کر کے آگ پر قابو پایا۔
| تفصیلات | واقعے کی حقیقت |
|---|---|
| وجہ | پورٹیبل بیٹری (Powerbank) میں دھماکہ |
| مقام | بحرِ اوقیانوس کی فضائی حدود |
| اثرات | شدید دھماکہ اور کیبن میں آگ |
یہ خبر آپ کے لیے کیوں اہم ہے؟
ایک عام مسافر کے لیے یہ گھر میں ہونے والے بجلی کے شارٹ سرکٹ جیسا لگ سکتا ہے، لیکن 10,000 میٹر کی بلندی پر یہ خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے عالمی ایوی ایشن ادارے لیتھیوم بیٹریوں کے لیے سخت قوانین بنا چکے ہیں۔
ضروری قانون:
بیٹریاں ہمیشہ ہینڈ کیری (Cabin) میں رکھنی چاہئیں، جہاز کے سامان خانے (Cargo) میں نہیں۔ تاکہ اگر آگ لگے تو عملہ اسے فوری بجھا سکے۔
ممکنہ تبدیلی:
اس واقعے کے بعد بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر بیٹریوں کی گنجائش (mAh) کی جانچ مزید سخت کی جا سکتی ہے۔