ہوائی کے مغربی جزائر پر طوفان 'لویل' نے تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں جزیرہ کوائی (Kauai) کے تقریباً تمام باشندے اندھیرے میں ڈوب گئے ہیں۔ اس قدرتی آفت نے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور افسوسناک طور پر ایک جان کا زیاں بھی ہوا ہے۔ ماہرین اس کے پیچھے موسمیاتی تبدیلیوں اور 'ایل نینو' کے اثرات کو قرار دے رہے ہیں۔

طوفان 'لویل' کا حملہ: کیا ہوا؟

رپورٹس کے مطابق، منگل 9 ستمبر 2026 کی صبح کے وقت طوفان لویل (Hurricane Lowell) نے ہوائی کے مغربی جزائر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اگرچہ طوفان براہ راست مرکز سے نہیں گزرا، لیکن اس کی شدت نے کوائی (Kauai) اور چھوٹے جزیرے نیہاو (Ni’ihau) میں شدید تباہی مچائی، جبکہ اوہو (Oahu) بھی اس سے متاثر ہوا۔

جزیرہ کوائی کی صورتحال

کوائی میں بجلی کی فراہمی کرنے والے ادارے کے مطابق، تقریباً تمام 35,000 صارفین کی بجلی منگل کو منقطع ہو گئی۔

  • راستے: نارتھ شور اور ویسٹ سائیڈ کی سڑکیں سیلاب اور ملبے کی وجہ سے بند ہو گئیں۔
  • بندرگاہ: پورٹ ایلن (Port Allen) میں کئی کشتیاں ڈوب گئیں اور گھاٹ (docks) تباہ ہو گئے۔
  • ہنگامی صورتحال: ہنگامی انتظامیہ نے 198 فعال خطرات کی رپورٹیں درج کیں۔

جزیرہ اوہو میں جانی نقصان

اوہو میں شدید بارشوں اور بلند لہروں نے ہونولولو کے شمال میں ساحلی سڑکوں کو ریت اور چٹانوں سے بھر دیا۔

افسوسناک طور پر، پیر کی رات ایک شخص کی موت واقع ہوئی جب ایک درخت اس کے خیمے پر گر گیا۔

علمی پس منظر: ایل نینو اور موسمیاتی تبدیلی

یہ واقعہ اگست میں آنے والے ٹروپیکل اسٹورم لالا کے بعد پیش آیا جس میں تقریباً 100 گھر تباہ ہوئے تھے۔ ماہرینِ موسمیات اس شدت کی وجہ 'ایل نینو' (El Niño) کے ایک طاقتور دور کو قرار دے رہے ہیں۔

ایل نینو کیا ہے؟ یہ بحر الکاہل کے مرکزی حصے میں سمندری سطح کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کا ایک عمل ہے۔ NOAA (قومی سمندری اور ماحول کی انتظامیہ) کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ 1950 کے بعد سب سے شدید ترین ہو سکتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کا اثر: انسانوں کی وجہ سے ہونے والی گلوبل وارمنگ اس عمل کو مزید تیز کر دیتی ہے، جس سے طوفانوں کو زیادہ توانائی اور نمی ملتی ہے، جس کا نتیجہ ہوائی جیسے علاقوں میں ایسی تباہ کاریوں کی صورت میں نکلتا ہے۔

مقامی حکام اب بھی نقصانات کا تخمینہ لگا رہے ہیں اور بنیادی خدمات کی بحالی کے لیے کام جاری ہے۔ تمام رہائشیوں کو حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔

ماخذ: The Guardian