ایک بے مثال قدرتی آفت
بدھ 26 اگست 2026 کو، نیپال کے ایک گلیشیئر سے برف کا ایک بہت بڑا حصہ، جو 5,200-5,500 میٹر کی بلندی پر واقع تھا، اچانک گر گیا۔ اس گرنے سے چٹانیں اور تلچھٹ اپنے ساتھ بہا لے گیا، جس سے لہندے کھولا دریا بند ہو گیا۔ جب یہ قدرتی بند ٹوٹا تو پانی، کیچڑ اور ملبے کی ایک بہت بڑی لہر تریشولی دریا کی وادی سے نیچے اتری، اور اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو تباہ کر دیا۔
امریکی ارضیاتی سروے (USGS) نے اس علاقے میں 4.4 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا، لیکن اسے زلزلے کی بجائے گلیشیئر کے گرنے سے منسوب کیا۔
متاثرہ علاقے اور نقصانات
یہ تودہ بنیادی طور پر نیپال کے اضلاع نوواکوٹ، راسوہ اور دیوی گھاٹ کے علاوہ تبت (چین) میں واقع گیریونگ سرحدی گزرگاہ پر آیا، جو مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ پورے دیہات، پل، سڑکیں اور ایک پن بجلی منصوبہ تباہ ہو گئے، جس سے امدادی راستے بند ہو گئے۔
ریڈ کراس کے مطابق، اس آفت سے تقریباً 90,000 سے 93,000 افراد متاثر ہوئے ہیں۔
28 اگست تک ہلاکتوں کی تعداد
| ملک | تصدیق شدہ اموات | لاپتہ |
|---|---|---|
| نیپال | 470 سے زائد (دیگر ذرائع: 392 کی شناخت) | کل 1,300 سے زائد |
| چین (تبت) | 5 | گیریونگ میں 558 (260 غیر ملکی) |
لاپتہ افراد میں کم از کم 540-700 غیر ملکی شامل ہیں، جن میں ہندوستان سے آنے والے ہندو زائرین بھی شامل ہیں۔
ریسکیو اور نیا خطرہ: ایک گلیشیئل جھیل پھٹنے کے قریب
تلاش اور بچاؤ کے کاموں کے لیے تقریباً 4,500 اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ تاہم، جمعہ 28 اگست کو، ایک گلیشیئل جھیل کے پھٹنے کے خطرے کی وجہ سے کارروائیاں معطل کر دی گئیں (جسے GLOF کہا جاتا ہے، انگریزی میں: Glacial Lake Outburst Flood)۔
یہ جھیل، جو ریسکیو زون کے قریب 2,950 میٹر کی بلندی پر واقع ہے، میں 2 ملین کیوبک میٹر سے زیادہ پانی موجود ہے۔ اگر یہ پھٹ جائے تو کیچڑ اور پانی کا ایک نیا تودہ آ سکتا ہے، جس سے امدادی ٹیموں اور زندہ بچ جانے والوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
علاقائی سیاق و سباق اور دیگر خبریں
نیپال اور چین اس انسانی بحران سے نمٹ رہے ہیں، وہیں دیگر خبریں بھی عالمی ایجنڈے پر ہیں: ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم کا 89 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کر کے “جھیل امریکہ” رکھنے کا حکم نامہ جاری کیا۔
عالمی برادری اس سانحے کی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہے، جو موسمیاتی تبدیلی کے پیش نظر بلند پہاڑی علاقوں کی کمزوری اور ابتدائی انتباہی نظام کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔