دنیا نے آج ایک افسانوی فنکار اور عظیم انسان کو الوداع کہا ہے۔ ڈولی پارٹن منگل 25 اگست 2026 کو 80 سال کی عمر میں اپنے آخری سفر پر چلی گئیں، لیکن ان کی موسیقی اور انسانیت کے پیار کا سفر ہمیشہ کے لیے زندہ ہے۔
امریکی میگزین بل بورڈ کے ذمہ داران کے مطابق، ان کی وفات کی خبر نے میگزین کے دفتر میں معذبہ رُو فضاء پیدا کر دی۔ میگزین نے لکھا: ہم اس وقت فرش کی قبر کے پاس بیٹھ کر رو رہے تھے اور ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی فرشتہ ہمارے پاس سے گزر گیا ہو۔
اور یہ کمی کوئی مبالغہ نہیں، کیونکہ ڈولی پارٹر کے اندر ایک ایسی خصوصیت تھی جو بہت کم لوگوں کو حاصل ہوتی ہے — وہ ایسے لوگوں کی محبت بھی حاصل کرتیں جو آپس میں دنیا کے مختلف سیاسی اور سماجی ڈسکوورسی میں ایک دوسرے کے مخالف ہیں، جیسے مسیحی قدامت پسندوں اور LGBTQIA+ کمیونٹی کے لوگ۔ وہ ہر قوم اور فرقہ کے لیے ایک مشعلِ راہ بن گئیں۔
سنہری دل اور پائیدار دستکاری
ان کی موسیقی کے ساتھ ساتھ، ڈولی پارٹر ایک خاموش کارکن بھی تھیں۔ ان کا پروگرام Imagination Library گزشتہ 30 سالوں سے ماہانہ ایک مفت کتاب ان بچوں کو دیتا ہے جن کی عمر 0 سے 5 سال ہوتی ہے، اور اب تک اس پروگرام کے ذریعہ 30 لاکھ سے زیادہ بچوں تک رسائی ہو چکی ہے۔
ان کی ایک سب سے یادگار خدمت 2020 کے وبائی دور میں سامنے آئی، جب انہوں نے کوئی ویکسین کی تیاری کے لیے 1 ملین ڈالر ویندربیلٹ یونیورسٹی کو عطیہ کیے تھے۔
"بے وقوف نہ بنیں، لہٰذا جب آپ کو لگے کہ کوئی چیز ایک مسئلہ ہے، تو آپ کو اسے حل کرنا چاہیے." – ڈولی پارٹن
اس اخلاقی عمق کی ایک مثال انہوں نے 2018 میں دی۔ انہ نے اپنی مشہور پارٹی "ڈکسی اسٹیمپی" کا نام تبدیل کرکے "ڈولی پارٹن کا اسٹیمپی" رکھ دیا، تاکہ امریکہ کی خانہ جنگی اور غلامی کے دور کی مناسبت سے بچا جائے۔
اسی طرح 2022 میں، انہیں نیویارک کی ایک تقریب میں، بے زوس (جیف بے زوس، انٹرنیٹ کمپنی ایڈیسن کے مالک) کی طرف سے ایک سو لاکھ ڈالر کا ایوارڈ ملا، جو انھوں نے خیراتی اداروں کو عطیہ کردیا۔ انھوں نے وہیں بلبورڈ کے ساتھ ایک طویل تجربہ کیا، اور 5 نومبر 2022 کو، انہیں روکس اینڈ رول ہال آف فیم میں شامل کیا گیا۔
🎶 موسیقی: ایک ہمیشہ جدید دنیا
ڈولی پارٹر نے 3000 سے زیادہ گانے لکھے۔ ان کی پہلی معروف ایجاد میں ہی انہوں نے وہ موضوعات اٹھائے جو اس وقت معاشرے میں سیلت سمجھی جاتی تھی۔ مثلآ ان کی گانا "The Bridge" (1968) نے حاملہ خواتین میں خودکشی کے واقعے کو بے نقاب کیا، جبکہ "Down From Dover" (1969) ایک نوجوان اور اکیلی ماں کی کہانی تھی، جسے کہی بھی نہیں چلایا گیا کیونکہ یہ حساس موضوع تھا۔
بلبورڈ نے انہیں تمام اوقات کی ایک سب سے بڑی کنٹری گلوکارہ قرار دیا ہے، اور ان کا مہابھارتی اور جادو گانا "Jolene" کو وہ خود کی تاریخ کی بہترین کنٹری میوزک کہا گیا ہے۔
ڈولی پارٹر صرف ایک کنٹری کی ملکہ نہیں تھیں؛ وہ ایک پل کے طور پر تمام دنیا کو ایک دوسرے سے جوڑتا تھا۔ آج ان کی زندگی اور سفر کی موسیقی ایک دائمی باز گشت بن جائے گی، جو سب کے دلوں میں رہی گئی ہے۔
یہ خبر امریکی میگزین بلبورڈ کے ٹریبیوٹ کا ترجمہ ہے، جس کا خلہ حوالہ Billboard پر موجود ہے۔