ارجنٹائن کی سینیٹ نے نجی ملکیت کی حفاظت سے متعلق قانون کو 37 کے مقابلے میں 33 ووٹوں سے منظور کر لیا۔ حکومت کو اہم شقوں سے دستبردار ہونا پڑا، جبکہ سماجی تحریکوں، فنکاروں کے احتجاج اور سیاسی غلط حساب کتاب نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔

ضبطی کے قوانین میں انقلابی تبدیلی

7 اگست 2026 کو ارجنٹائن کی سینیٹ نے نجی ملکیت کی حفاظت سے متعلق قانون کو 37 ووٹوں کے مقابلے میں 33 ووٹوں سے منظور کیا۔ یہ قانون ریاست کے اختیارات کو محدود کرتا ہے اور ضبطی کے عمل میں شفافیت لاتا ہے۔

اس قانون کے تحت، کسی بھی جائیداد کو ضبط کرنے کے لیے حکومت کو واضح طور پر عوامی مفاد ثابت کرنا ہوگا۔ ضبطی کا مقصد مخصوص، ضروری اور متناسب ہونا چاہیے۔

معاوضے کے اہم نکات

  • جائیداد کی قیمت کا تعین مارکیٹ ویلیو کی بنیاد پر کیا جائے گا، جو ضبطی کے اعلان سے پہلے ہو۔
  • جذباتی قدر یا فرضی منافع کو مدنظر نہیں رکھا جائے گا۔
  • معاوضے کی مکمل ادائیگی تک جائیداد کی منتقلی نہیں ہو سکے گی۔
  • عارضی قبضے کی مدت 90 دن سے زیادہ نہیں ہو سکتی، سوائے سنگین ہنگامی صورتحال کے۔

حکومت کی سیاسی غلطیاں

اس قانون کی منظوری کے دوران حکومت کو تین اہم شقوں سے دستبردار ہونا پڑا: غیر ملکی زمین کی ملکیت، آگ کے انتظام اور غریب آبادیوں کی رجسٹریشن۔ یہ حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا۔

وزیر ڈیسرگولیشن فیڈریکو سٹورزینیگر کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ انہوں نے ایک جامع بل پیش کیا جس سے مذاکرات پیچیدہ ہو گئے۔ حکومتی اتحاد کی سربراہ پیٹریشیا بولرچ اب اتحادیوں کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ثقافتی جنگ میں شکست

حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج عوامی رائے تھی۔ مشہور فنکاروں جیسے ٹینی سٹوسل، لالی ایسپوزیٹو اور ایمیلیا میرنیس نے 'وطن فروخت نہیں ہوتا' کے نعرے کو مقبول بنایا۔

فٹبال ٹیم کی انگلینڈ کے خلاف جیت کے بعد 'مالویناس ارجنٹائن کے ہیں' کے نعرے نے بھی حکومت کے خلاف جذبات کو ہوا دی۔

سرجیو ماسا کی حکمت عملی اور 2027 کے انتخابات

سابق وزیر معیشت سرجیو ماسا نے گورنرز سے رابطہ کر کے حکومت کے منصوبوں کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا ماننا ہے کہ 2027 کے انتخابات کے لیے پیرونسٹ اتحاد ضروری ہے، اور کرسٹینا فرنانڈیز ڈی کرچنر اس اتحاد کی کلیدی شخصیت ہیں۔

دوسری طرف، صوبہ بیونس آئرس کے گورنر ایکسل کیسیلوف اپنی علیحدہ سیاسی راہ پر گامزن ہیں۔ ان کے دور میں اساتذہ کی تنخواہوں میں 22.7 فیصد کمی آئی ہے، جو ان کے صدارتی عزائم کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

یہ بل اب ایوان زیریں میں پیش کیا جائے گا، جہاں حکومت کو اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔